25 اپریل 2012 - 19:30

شام کی حکومت کے مخالف گروہوں نے گرچہ کوفی عنان کی تجویز تسلیم کرلی ہے لیکن عملا اس تجویز کو ناکام بنانے کے اقدامات کررہے ہیں۔

ابنا: شام کے ہمسایہ ملکوں کی جانب سے مسلح گروہوں کی فوجی اور سیاسی حمایت بدستور جاری ہے اور شام کے ہمسایہ ممالک جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں ان کے سابق اور موجودہ حکام باغیوں کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور قطر اور ترکی کی جانب سے شام کے مخالف مسلح گروہوں کو ہتھیار فراہم کئے جارہے ہيں اور ان کی سیاسی حمایت بھی جاری ہے۔

یہ ممالک شام میں کوفی عنان کے منصوبے کو نظر انداز کرکے بدستور شام میں بدامنی پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں۔ لبنان میں بھی میقاتی حکومت کے مخالف گروہ سعد حریری کی سربراہی میں یہ بھر پور کوشش کررہے ہيں کہ کوفی عنان کا منصوبہ ناکام ہوجائے۔ سعد حریری کی پارٹی المستقبل شام کے مخالف گروہوں کو بدستور ہتھیار فراہم کررہی ہے۔

لبنان کے سکیورٹی ذرایع نے گذشتہ روز اسلحہ لے جانے والے ایک ٹرک کو پکڑا تھا جس میں شام کے مخالف گروہوں کے لئے ہلکے اور بھاری ہتھیار لےجائے جارہے تھے۔ شام کے خلاف ایسے عالم میں پابندیوں میں شدت لانا جبکہ شام کے لئے بین الاقوامی مبصرین بھیجے جارہے ہیں شام کے تعلق سے مغرب کے متضاد رویے کو آشکار کرتا ہے۔

شام کے اخبار الثورہ نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ جب سے شام کے تعلق سے کوفی عنان نے سرگرمیاں شروع کی ہیں یورپی یونین کا متضاد رویہ دیکھنے کو مل رہا ہے حالانکہ خود یورپی یونین نے کوفی عنان کے منصوبے کی حمایت کی ہے ۔

اس اخبار کے مطابق یورپی یونین اور مغرب شام کے تعلق سے دوغلی پالیسیوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی ممالک اور ان کے عرب اتحادی اپنی اعلان شدہ پالیسیوں کے برخلاف شام میں کوفی عنان کو کامیاب ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اگر کوفی عنان کامیاب ہوگئے تو مغرب اور اسکے آلہ کار اپنے اھداف کو نہیں پہنچ سکیں گے۔

شام کے صدر بشار اسد کی نیک نیتی سے غلط فائدہ اٹھانا جنگ بندی پر عمل کرنے کے سلسلے میں ایک اور اہم مسئلہ ہے جس سے شام میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کوفی عنان کی چھے نکاتی تجویزکے مطابق بارہ اپریل سے شام میں جنگ بندی کا اعلان کیا گيا تھا لیکن دہشتگردوں نے شام کے شہروں سے فوج کے انخلا کے بعد حالات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ تشدد شروع کردیا ہے۔ شام میں جنگ بندی کے آغاز سے دہشتگردوں نے جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی تشدد آمیز کاروائيوں میں دسیوں افراد کو قتل کیا ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شام کے بحران کے بارے میں کلیدی نکتہ یہ ہےکہ ترکی سعودی عرب اور قطر نیز بعض دیگر ملکوں نے شام کے خلاف مغرب کی پالیسیوں کی حمایت کرکے عملا صیہونی حکومت کی حمایت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ صیہونی حکومت کی فوج کی انٹلجنس ایجنسی کے سابق سربراہ نے شام میں جاری حالیہ تشدد پر خوشی کا اظہار کرتےہوئے کہا ہےکہ ہمیں امید ہےکہ ہم شام میں تبدیلیاں لاکر اپنے اھداف تک پہنچ سکیں گے کیونکہ شام کو مزاحمت کے محاذ سے نکالنا ہمارے مفاد میں ہے۔

اس حقائق کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ شام کے بحران کے تعلق سے اسلامی ملکوں میں اختلاف و تفرقہ جو کہ مغرب کا بنیادی ھدف ہے دراصل صیہونی حکومت کے مفاد میں ہے جو کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں اسلامی بیداری کی لہر سے روز بروز قوموں کی نفرت کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

 ....... /169